|
”
میرے والدین
کی رحلت نے مجھے
یتیم کیا تھا
جبکہ امام خمینیرح
کی رحلت نے مسلمانان
عالم کو یتیم
کر دیا ہے۔ اس
لیے یہ صدمہ
ذاتی صدمات
سے بڑھ کر ہے“۔
ڈاکٹر صاحب
کی شہادت:
آپ کو اپنی موت
کا یقین تھا
ور آخر ایام
میں دوستوں
کو کہتے تھے
کہ ” میں نہیں
چاہتا کہ ضعیفی
میں کھانس کھانس
کر مروں، خدا
میری زندگی
کو میری متحرک
زندگی سے متصل
کر دے “ برس بیت
گئے اور ابھی
تک شہادت نصیب
نہیں ہوئی لگتا
ہے کہ میرا کوئی
عمل خدا کو پسند
نہیں آیا“۔
اسطرح یہ کہنا
بے جا نہیں ہوگا
کہ آپکو یقین
تھا کہ آپکو
شھید کیا جائے
گا ۔جس کا اندازا
اس فقرے سے لگایا
جاسکتا ہے جو
اپنے وصیت نامہ
میں تحریر کیا
" یری لاش کا
پوسٹ ماٹم نہ
کیا جائے اور
نہ ہی میرے جنازے
پر تنظیمی اجتماع
و احتجاج کیا
جاے۔
آخر یہ عبد خدا
جس کا متمنی
تھا۔ اس ہدف
تک پہنچ گیا
اور طاغوتی
طاقتوں اور
شیطان بزرگ
امریکہ کے حامی
اور ایجنٹ جب
آپ کی فکر کا
مقابلہ نہ کر
سکے تو 7 مارچ
1995 ءکو آپ کے ایک
رفیق باوفا
تقی حیدر کے
ہمراہ صبح ساڑھے
سات بجے کے قریب
آپ کے گھر کے
نزدیک یتیم
خانہ چوک پہ
کلاشنکوف کی
گولیوں کا نشانہ
بنایا اور آپ
شہید ہوئے اور
ایک ایسی سرخ
موت سے ھمکنار
ھوئے جسکی تمنا
ھمیشہ کرتے
رھے اور اپنے
مولا امیرالمومنین
حضرت علی علیہ
اسلام کی طرح
اسکی تلاش میں
رھے اور بلآخر
اسے پالیا۔
مقتل آپ کویوں
یاد کرتا ہے
گزر تو
جائے تیرے بغیر
بھی لیکن
بہت اداس بڑی
بے قرار گزرے
گی |