CONTACT | +92-300-9238065    
 
Dr Muhammad Ali Naqvi Barsi on 16th march 2011

 
 
   

میرے والدین کی رحلت نے مجھے یتیم کیا تھا جبکہ امام خمینیرح کی رحلت نے مسلمانان عالم کو یتیم کر دیا ہے۔ اس لیے یہ صدمہ ذاتی صدمات سے بڑھ کر ہے“۔
  ڈاکٹر صاحب کی شہادت:

آپ کو اپنی موت کا یقین تھا ور آخر ایام میں دوستوں کو کہتے تھے کہ ” میں نہیں چاہتا کہ ضعیفی میں کھانس کھانس کر مروں، خدا میری زندگی کو میری متحرک زندگی سے متصل کر دے “  برس بیت گئے اور ابھی تک شہادت نصیب نہیں ہوئی لگتا ہے کہ میرا کوئی عمل خدا کو پسند نہیں آیا“۔
اسطرح یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ آپکو یقین تھا کہ آپکو شھید کیا جائے گا ۔جس کا اندازا اس فقرے سے لگایا جاسکتا ہے جو اپنے وصیت نامہ میں تحریر کیا
" یری لاش کا پوسٹ ماٹم نہ کیا جائے اور نہ ہی میرے جنازے پر تنظیمی اجتماع و احتجاج کیا جاے۔
آخر یہ عبد خدا جس کا متمنی تھا۔ اس ہدف تک پہنچ گیا اور طاغوتی طاقتوں اور شیطان بزرگ امریکہ کے حامی اور ایجنٹ جب آپ کی فکر کا مقابلہ نہ کر سکے تو 7 مارچ 1995 ءکو آپ کے ایک رفیق باوفا تقی حیدر کے ہمراہ صبح ساڑھے سات بجے کے قریب آپ کے گھر کے نزدیک یتیم خانہ چوک پہ کلاشنکوف کی گولیوں کا نشانہ بنایا اور آپ شہید ہوئے اور ایک ایسی سرخ موت سے ھمکنار ھوئے جسکی تمنا ھمیشہ کرتے رھے اور اپنے مولا امیرالمومنین حضرت علی علیہ اسلام کی طرح اسکی تلاش میں رھے اور بلآخر اسے پالیا۔

مقتل آپ کویوں یاد کرتا ہے

گزر تو جائے تیرے بغیر بھی لیکن                
بہت اداس بڑی بے قرار گزرے گی

 
Home | Biography | Videos | Gallery | Contact | MAWAPAK
© All Copyright Reserved to Drmanaqvi.com