| روابط
تھے اور آپ ان
کے ہر امر کی
تعمیل بھی لازم
سمجھتے تھے۔
1986 ءمیں جب امام
سید علی خامنہ
ای صدر اسلامی
جمہویہ ایران
کی حیثیت سے
پہلی بار سرکاری
دورے پر پاکستان
تشریف لائے
تو لاہور میں
استقبال کے
تمام انتظامی
امور آپ کے ہاتھ
میں تھے۔ جب
تمام تر تیاری
کے باوجود صدر
اسلامی جمہوریہ
ایران ایک دن
تاخیر سے آئے
تو ڈاکٹر شہید
نے استقبالی
ہجوم کو فرمایا!
” ہمارے معزز
مہمان کل تشریف
لائیں گے۔ لہٰذا
دور دراز سے
آئے ہوئے لوگوں
کو گھروں کو
واپس نہیں لوٹنا
چاھئے۔ یہ صدر
ایران کا استقبال
نہیں ہے بلکہ
امام خمینیرح
کے نمائندہ
کا استقبال
ہے۔ لاہور والے
افراد کو چاہیے
کہ باہر سے آئے
ہوئے برادران
کو اپنے گھروں
میں لے جائیں
اور ان کی مہمان
نوازی کریں۔
دوسرے روز جونہی
نمائندہ امام
خمینیرح لاہور
ایئر پورٹ پر
آئے تو ڈاکٹر
صاحب اور آپ
کے احباب نے
پاکستان کی
تاریخ کا مثالی
استقبال کیا۔
آسمان اس موقع
پر مرگ بر امریکہ
اور یار امام
خوش آمد سے گونج
اٹھا۔ ڈاکٹر
صاحب فرمایا
کرتے تھے کہ
یقیناً امام
خمینیرح خوش
ہوں گے کہ اسلامیان
پاکستان نے
ان کے نمائندہ
کو دل کی گہرائیوں
سے خوش آمدید
کہا ہے۔
ڈاکٹر شہید
کی ذات کا امام
خمینیرح
سے عشق:
آپ امام کے سچے
اور حقیقی عاشق
تھے جس کا ثبوت
یہ تھا کہ آپ
نے پہلی بار
پاکستان میں
امریکہ مردہ
باد کا نعرہ
لگایا اور ایوانوں
میں بیٹھے ہوئے
حکمرانوں کو
للکارا۔ جب
دوران حج ایرانی
باشندوں کو
شہید کیا گیا
تو اگلے سال
ایران سے کوئی
حاجی حج بیت
اللہ کو نہیں
گیا۔ اسی سال
ڈاکٹر صاحب
نے کچھ دوستوں
کے ساتھ ایک
ٹیم تیار کی
جو دنیا کے مختلف
کونوں سے حج
کے دوران جمع
ہوئے تھے جس
کا بڑا مقصد
تھا کہ حجاج
کرام کو شیطان
دوراں سے واقفکرانا
تھا۔ چنانچہ
آپ لوگوں نے
حجاج پر واضح
کیا:
” اے مسلمانوں
تم جس شیطان
سے نفرت کا اظہار
کر رہے ہو آج
وہ امریکہ کی
شکل میں موجود
ہے لہٰذا آج
کے شیطان بزرگ
سے برآت کا اعلان
کرو، قرآن مجید
کے حکم کی تعمیل
کرو۔ اس موقع
پر ان افراد
نے اپنے احرام
جن پر مرگ ب امریکہ
لکھا ہوا تھا
ہوا میں لہرائے
اور صدائے احتجاج
بلند کی! |