| تو
آخری الوداع
قبرستان شھداء(
بہشت زہرا ) کو
کیا۔ آپ فرماتے
تھے کہ یہ اتنا
خوبصورت ہے
کہ دل چاہتا
ہے زندہ قبر
میں لیٹ جاﺅں۔
یہاں پر شہید
ڈاکٹر مصطفیٰ
چمران کی
تربت بھی ہے۔
جہاں ڈاکٹر
صاحب نے خوب
گریہ کیا اور
شہادت کی دعائیں
مانگیں۔ ایک
ساتھی اس واقعہ
کو یاد کر کے
آج بھی کہتے
ہیں کہ ہم جیسوں
نے کہا ڈاکٹر
صاحب ہمارے
بچے اور خاندان
والے پیچھے
وطن میں انتظار
کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب
آیت اللہ طاہری
کے درس میں باقاعدگی
سے شرکت کرتے
اور برادران
کو آگاہ کرتے:
” نمائندہ امام
خمینی کے دروس
انقلاب پرور
ہیں بلکہ مجھے
تو ان سے امام
خمینی رح کی
خوشبو آتی ہے
“
شہید کا انقلاب
ایران سے لگاﺅ
تین بنیادوں
پر تھا جس کا
اظہار انہوں
نے 11 فروری 1990 ءمیں
روزنامہ جنگ
لاہور کے خصوصی
ایڈیشن برائے
انقلاب اسلامی
ایران میں یوں
فرمایا کہ ( انقلاب
اسلامی ایران
) قیادت، نظریہ
اور قربانیوں
کا ثمر ہے۔ جب
تک وہاں کے عوام
ان بنیادی اصولوں
پر قائم ہیں
ہم اس وقت تک
ان کا ساتھ دیتے
رہیں گے کیونکہ
ہم سمجھتے ہیں
کہ انقلاب کی
بقاءان اصولوں
میں مضمر ہے۔
شہید عارف
حسینی سے ڈاکٹر
شہید کا عشق
اور لگا و :
اس کا اندازہ
اس بات سے لگایا
جا سکتا ہے کہ
جب شہید قائد
نے ” قرآن و سنت
کانفرنس “ مینار
پاکستان پر
منعقد کرنے
کو کہا۔ جبکہ
ڈاکٹر صاحب
حالات کے پیش
نظر اس تجویز
کے مخالف تھے
مگر پھر بھی
اپنے محبوب
قائد کی آواز
پر لبیک کہا
اور اپنے قریبی
دوستوں سے کہا:
اس شخص کی بات
ہم پر تین طرح
سے حجت ہے:
۱۔ اول عارف
حسینی ہمارے
قائد ہیں۔
۲۔ دوم یہ کہ
ہمیشہ ان کی
ہر بات کے پیچھے
کوئی طاقت گویا
ہوتی ہے۔
۳۔ سوم یہ کہ
یہ امام خمینی
کے نمائندہ
ہیں۔
لہٰذا ان کی
کسی بات کے آگے
چوں چراں گناہ
کرنے کے مترادف
ہے۔
شھید اور استقبال
رھبرمعظم:
یہ آپ کی امام
خمینیرح سے
محبت کا نتیجہ
تھا کہ دنیا
بھر میں امام
کے نمائندگان
سے آپ کے |