| کی
بناءپر بعد
از شہادت نعرہ
لگا کہ
” ڈاکٹر کا نعرہ
یاد ہے امریکہ
مردہ باد ہے
“
اسی دوران
قائد انقلاب
اسلامی امام
خمینی بت شکن
نے صدائے" ھل
من ناصر ینصرنا
بلند کی ک " جو
شخص جنگ کی طاقت
رکھتا ہو وہ
محاذ پر جائے“۔
پس اس فرزند
زہرا نے آخری
امام کے حقیقی
نائب کی صدا
پر پاکستان
سے لبیک یا امام
کا نعرہ بلند
کیا ور محاذ
جنگ میں ڈاکٹری
کے فرائض انجام
دینے کے لیے
روانہ ہوگئے۔
آپ دوران محاذ
غازیان ایران
کی تیمارداری
کے فرائض انجام
دیتے رہے۔ آپ
نے دوران جنگ
ایران کے شہر
شلمچے اور اھواز
میں طبی خدمات
سرانجام دیں۔
اس دوران میں
کچھ احباب جب
آپ کو آرام کو
کہتے تو آپ جواباً
کہتے کہ:
” دوستو میں یہاں
آرام کرنے نہیں
بلکہ فرزندان
اسلام کی خدمت
کے لیے آیا ہوں
“۔ یہی وجہ تھی
کہ آپ کے دوستوں
نے آپ کو ڈاکٹر
پریشان کا لقب
دیا اور بعد
میں ایک برادر
نے ڈاکٹر صاحب
کو ایک کارڈ
اسرسال کیا
جس پر ڈاکٹر
شہید مصطفیٰ
چمران کی تصویر
بنی ہوئی تھی
اور لکھا تھا
” چمرانثانی
کے لیے“۔ جب برادران
برسی ِ امام
¿خمینی کے موقع
پرایران گئے
اور شھید مصطفی
چمران کی مقتل
گاہ پر حاضری
دی تو ایک بسیجی
نے چمران ثانی
کے بارے میں
یوں کہا جو کہ
امام خمینی
کا قول ہے” جیو
چمران کی طرح
اور مروچمران
کی طرح“۔
ڈاکٹر صاحب
اور اصول پسندی:
ڈاکٹر صاحب
کے اصول پسند
ہونے اور عاشق
انقلاب ہونے
کا اندازہ اس
بات سے لگایا
جا سکتا ہے کہ
دوران جنگ ڈاکٹر
صاحب کی کوششوں
سے ادویات کے
ٹرک بھی ایران
روانہ کیے گئے
جن کے ساتھ خود
ڈاکٹر صاحب
ایران گئے۔
اس دوران جب
باڈر پر پہنچے
تو عملے نے بتایا
کہ آپکے پاسپورٹ
پر ایک مہر نہیں
لگی ہوئی ہے
تو آپ اسی پاﺅں
واپس کوئٹہ
لوٹے اور اس
غلطی کو درست
کروایا۔ جب
آپ لگاتار سفر
کے بعد بارڈر
پر پہنچے تو
اس افسر نے سوالیہ
انداز میں آپ
سے کہا:
” ہو کس فولاد
کے بنے ہوئے
“
شھادت کی خواہش:
جب ڈاکٹر صاحب
محاذ جنگ سے
ایک غازی کی
حیثیت سے وطن
واپس لوٹ رہے
تھے |