| شہید
کے بطور مر کز
ی صدر:
یہ تنظیمی سفر
مختلف نشیب
و فراز سے گزرتا
رہا اور آخر
حالات و واقعات
اور تنظیمی
ضروریات کو
پورا کرنے کے
لیے 1976 ءسے 1977 ءمیں
ڈاکٹر صاحب
کو
کا مرکزی صدر
منتخب کر لیا
گیا۔ جب آپ کو
بطور مرکزی
صدر اسٹیج پر
لایا گیا تو
آپ اشکبار تھے۔
جس کی وجہ آپ
کے اس قول سے
واضح ہوتی ہے
کہ
” دوستو حلف صرف
ایک سال کے لیے
نہیں بلکہ حلف
کا تعلق پوری
زندگی سے ہوتا
ہے “
آپ حقیقتاً
ان افراد میں
سے ایک ہیں جنہوں
نے حلف کو صرف
صدارتی مدت
کے لیے نہیں
بلکہ تمام عمر
حلف پر قائم
رہے۔ ( میں خدا
و رسول اور امام
زمانہ۴
کے روبرو اقرار
کرتا ہوں ....) اس
دوران خاص طور
پر اپنے دوستوں
کی توجہ خود
سازی کی طرف
دلائی۔ شہید
اپنی موٹر سائیکل
پر علماءکرام
کو لے کر شہر
کے کونے کونے
میں درس کے پروگرام
میں لے جاتے
اور خود بھی
بغور درس سنتے
اور اھم نکات
کو نوٹ کرتے۔
نوجوانوں میں
اسلامی فکر
پیدا کرتے۔
اپنی صدارت
کے دوران اپنے
” امامیہ نیوز
بلٹن “ شائع کرنے
کی بھی کوشش
کی۔
شادی اور
تنظیم:
مارچ 1971 ئمیں آپ
کا نکاح آپ کے
تایا سید شبیر
حسین نقوی کی
صاحبزادی سیدہ
کنیز بتول نقوی
سے ہوا۔ جو اس
دور کے مانے
ہوئے باعمل
روحانی شخصیت
تھے۔ یہ خوش
قسمتی تھی کہ
ان کی زوجہ نیک
اخترکی اور
ان کی پرورش
میں ان کی پھوپھی
کا بڑا کردار
تھا اور آپ کا
نام بھی انہوں
نے تجویز کیا
جن کی قبر مبارک
وادی السلام
نجف میں ہے۔
نکاح سے ایک
روز قبل آپ کو
تاکید کی گئی
کہ آپ پنجاب
یونیورسٹی
کے ہاسٹل میں
مقیم رہیں ورنہ
وقت نکاح انہیں
لاہور شہر میں
ڈھونڈنامشکل
ھو جائے گا۔
شہید کے تنظیمی
کاموں میں ڈوبے
ہونے کا یہ عالم
تھا کہ بارات
کی روانگی سے
تھوڑی دیر پہلے
آپ کو پریس سے
لایا گیا۔ جہاں
آپ تنظیمی پوسٹر
چھپوانے میں
مصروف تھے۔
تنظیم سے مخلص
ہونے کا اندازہ
اس بات سے لگایا
جا سکتا ہے کہ
جب آپ نے اپنی
زوجہ سے پہلی
ملاقات کی تو
یہ بات واضح
کردی کہ
” یہ میری دوسری
شادی ہے “
جب زوجہ کافی
پریشان ہوئیں
تو آپ نے کہا
کہ میں پہلی
شادی تنظیم
سے |