| پہلی
بار پنجاب یونیورسٹی
کے سیمینار
ہال میں ہوا۔
جس میں تاریخی
خطاب جناب مفتی
جعفر حسین نے
کیا اورجو پروگرام
یومِ حسین آج
بھی پاکستان
کے تمام کالجز
اور یونیورسٹیز
میں جاری وساری
ہیں آج یہ پروگرامات
کی پہچان بن
گئے ہیں ۔ وہ
پہلا تنظیمی
پروگرام تھا
جس کی بناءپر
پہلی بار
کو عوامی سطح
پر بھر پور کامیابی
ملی۔ یوں ملک
کے بڑے تعلیمی
اداروں میں
متعارف ہوئی۔
ک
کی نشرواشاعت
اور ڈاکٹر صاحب
اسی دوران ڈاکٹر
صاحب کی سوچ
کی بناءپر اور
پختہ جذبہ کی
بدولت ایک کیلنڈر
کی اشاعت ممکن
ہوئی۔ جس پر
امام حسین کے
روضہ کی تصویر
تھی اور اس تنظیم
کے نصب العین
اور مقاصد لوگوں
پر واضح کیے
گئے تھے۔ ڈاکٹر
صاحب کے جذبات
صرف اشاعت کی
حد تک محدود
نہیں رہے تھے
بلکہ آپ نے اس
کی مارکیٹنگ
اور فروخت میں
بڑھ چڑھ کر حصہ
لیا۔ جس کو چشم
دید گواہ یوں
بیان کرتے ہیں
کہ ڈاکٹر صاحب
اپنے کالج
کے سائیکل اسٹینڈ
پر کھڑے ہو کر
کیلنڈر فروخت
کرتے تھے۔ اس
کیلنڈر کی بناءپر
کی خوشبو ملک
کی فضاﺅں میں
پھیل گئی۔
ک ا
یک ملک گیر تنظیم
1975ءسے 1976 ءمیں
ملک بھر میں
پھیلی اور اس
کا چوتھا سالانہ
کنونشن دفتر
سے نکل کر پنڈال
کی شکل اختیار
کر گیا۔ یہ
کا پہلا کنونشن
تھا جو جامعة
المنتظر لاہور
میں منعقد ہوا۔
جس میں ڈاکٹر
صاحب نے کنونشن
کے اسٹیج سیکریٹری
کے فرائض انجام
دیے اور تمام
آنے والے برادران
کا والہانہ
استقبال کیا
اور ان کے سینوں
کو
کے بیجز سے منور
کرتے۔ یہاں
تک کہ اس دوران
مٰں مختلف برادران
سے ملتے اوردوران
پروگرام دشواریوں
کے بارے میں
دریافت کرتے
اور ان کے تاثرات
کو تحریر کرتے
اور مشکلات
پر ان سے معذرت
چاہتے۔ دن بھر
اگر تنظیمی
امور میں مصروف
رہتے تو رات
بھر برادران
کے ساتھ خوردونوش
کے انتظامات
میں مصروف رہتے۔
یہاں تک کہ اگر
موقع ملتا تو
برتن صاف کرنے
میں بھی برادران
کا ساتھ دیتے۔
بشکر الحمد
للہ آج 28 واں سالانہ
کنونشن بھی
جامعة المنتظر
میں ہو رہا ہے۔
جس کو شھید ڈاکٹر
محمدعلی سے
منصوب کیا گیا۔اور
نا م سفیرا نقلاب
تجو یز پایا۔
|