| شھید
اور تنظیم :
ڈاکٹر صاحب
نے گورنمنٹ
کالج لاہور
میں دوران تعلیم
اپنے دوستوں
کے شعور انسانی
کو بیدار کرنے
کے لیے ینگ شیعہ
اسٹوڈنٹس ایسوسی
ایشن قائم کی
اور اس کے روح
رواں بھی بن
گئے۔ اسی دوران
آپ کی پڑھائی
بھی نظر انداز
ہوئی اور نوبت
یہاں آن پہنچی
کہ والد صاحب
نے میڈیکل کالج
میں داخلہ لینے
کی صورت میں
منہ مانگے انعام
کی پیشکش بھی
کی۔
شہید کی محنت
اور انعام :
پس اس فرزند
نے والد کی اطاعت
کی خوب محنت
کے ساتھ امتحان
کی تیاری کی۔
جن واقعات کو
آپ کے چچا زاد
بھائی یوں نقل
کرتے ہیں کہ
ہم نے ڈاکٹر
کو 18 گھنٹے بھی
پڑھتے دیکھا
اور حد یہاں
تک کہ رات کو
پڑھتے وقت پانی
پاس رکھتے اگر
نیند غالب آنے
لگتی تو پانی
سے اپنے آپ کو
بیدار کرتے۔
آخر کار محنت
رنگ لائی اور
اپنے 70% نمبروں
سے امتحان پاس
کیا اور میڈیکل
کالج میں داخلہ
لیا۔ پس ڈاکٹر
نے نوجوانی
کے عالم میں
اپنے سچے جذبہ
عشق اہل بیت
کی بنا پر والد
صاحب سے زیارت
چہاردہ معصومین
اور عمرہ کا
ٹکٹ بطور انعام
حاصل کیا۔
بانی
ہونے کا انداز:
تنظیمی دور
میں فعالیت،
میڈیکل کی پڑھائی
کے دوران آئی
ایس او تنظیم
کا باقاعدہ
پہلا اجلاس
ڈاکٹر ماجد
نوروز عابدی
کی رہائش گاہ
پر ہوا۔ اسی
دوران تنظیم
کا نام آغا علی
موسوی کے دست
شفقت سے
تجویز پایا۔
جبکہ ڈاکٹر
صاحب اکثر اوقات
دوستوں کو
کا مفہوم یوں
بیان کرتے علم
کیمیاءمیں
آئی ایس او پاکستان
کا مطلب ایک
جیسا ہونا ہے
اور شھید کے
کزن انکا ایک
جملہ یوں نقل
کرتے ہیں کہ
وہ اکژ
کو یوں بیان
فرمایا کرتے
تھے کہ آئی سو"یعنی
مجھے دیکھو
،میرا کردار
، میرے افکار
اور میرا اخلاق
اہلیبیت کے
ماننے والو
جیسا ہونا چاہیے
اسی دوران
کی پہلی کابینہ
کا اعلان ہوا
تو ڈاکٹر صاحب
کو آفس سیکریٹری
منتخب کیا گیا
جو کہ آپ کی پسندیدہ
شعبہ تھا اور
ہمیشہ کہا کرتے
تھے کہ تنظیم
کا مرکزی آفس
جس قدر مستحکم
اوریونٹس سے
مربوط ہوگا
وہ تنظیم اسی
قدر ترقی کرے
گی۔
کا
کامنظر عام
پر آنا
کا کا
تعارف یونیورسٹی
میں یوم حسین
کے پروگرام
سے ہوا۔ جس کا
انعقاد |