|
شہید کی
تعلیمی سرگرمیاں:
اپنے والدین
کے ساتھ رہتے
ہوئے ابتدائی
تعلیم کینیا
کے دارالخلافہ
نیروبی میں
حاصل کی بعد
ازاں والدین
کے ہمراہ تنزانیہ
اور یوگنڈا
کے دارالخلافہ
کمپالہ آنا
پڑا اور اپنے
سینیئر کیمبرج
کا امتحان اچھے
نمبروں سے کمپالہ
میں پاس کیا۔
بعد از انٹر
پری میڈیکل
گورنمنٹ کالج
لاہور سے کیا
جو کہ
کے نام سے جانا
جاتا ہے۔ اس
کے بعد پاکستان
کے قدیمی اور
معروف کالج
سے کیا اور بعد
میں بھی کیا۔ اسی
دوران اپنی
تنظیمی زندگی
کا باقاعدہ
آغاز کیا۔ جبکہ
اپنی ابتدائی سرکاری سوس
ہسپتال میں
کی۔ جبکہ میں بھی کی اور دوران
ملازمت علامہ
اقبال میڈیکل
کالج میں استاد
کے فرائض بھی
سر انجام دیے۔
تحصیلِ علم
کے دوران چند
سرگرمیاں:
سینیئر کیمبرج
کے زمانہ طالب
علمی میں اپنے
اسکاﺅٹ کی تعلیم
حاصل کی اور
اس دوران میں
اپنے آپ کو بہترین
اسکاﺅٹ ثابت
کیا۔ دوران
تعلیم سینیئر
کیمبرج میں
آپ ایک اچھے
بھی تھے اور
نوبت یہاں تک
آئی کہ آپ کو
کا جنرل سیکریٹری
منتخب کیا گیا۔
آ پ نے ایک
کی حیثیت سے
کمپالہ میں
ملکی سطح پر
شہرت پائی۔
شہید اور کھیل:
آپ زمانہ طالب
علمی میں جوڈو
کراٹے سے بھی
واقف تھے اور
آپ نے بچپن میں
مولا علی کے
قول پر عمل بھی
کیا۔ تیراکی
بھی سیکھی اور
کا
اعزاز حاصل
کیا اور گھڑسواری
اور نشانہ بازی
بھی سیکھی۔
آپ کو بچپن ہی
سے
کا شوق تھا۔
جو
آپ نے جمع کیے
وہ آج تک محفوظ
ہیں۔ جبکہ کتاب
پڑھنا بھی آپ
کا بہترین مشغلہ
تھا۔ جس کا اندازہ
اس لائبریری
سے لگایا جا
سکتا ہے جو آپ
کے گھر پر قائم
ہے۔ جہاں ہزارہا
کتابیں انگلش،
اردو، فارسی
اور عربی میں
موجود ہیں۔
ہم اس بات کو
بڑے کامل یقین
سے تحریر کر
رہے ہیں کہ ان
تمام کتابوں
کو ڈاکٹر صاحب
نے بغور مطالعہ
کیا ہوا تھا۔
اس سے اندازا
ہوتا ہے کہ ڈاکٹر
شھید کو کس قدر
لائبریریز
میں دلچسپی
تھی اوریہ انہیں
بزرگان کی کوششوں
کاثمر ہے جو
آج امامیہ لائبریریز
کانیٹ ورک نظر
آتا ہے۔ |