| خاندانِ
شھیدکا مختصر
تعارف:
شہیدشہید
ڈاکٹر محمد
علی نقوی ولد
سید امیر حسین
نقوی کے خاندان
کا سلسلہ امام
حضرت علی نقی
سے ملتا ہے۔
یہ خاندان سادات
تبلیغ پیغام
کربلا میں مصروف
رہا اور تقریباً
تقریباً آج
سے ڈیڑھ سو سال
قبل شہید ڈاکٹر
کے پردادا مدد
علی شاہ شرقپور
سے وطنہ آکر
آباد ہوئے۔
یہ خاندان اپنے
تقوٰی اور کردار
کی بناءپر عوام
الناس میں مقبول
ہوا ور پھر ڈاکٹر
صاحب کے دادا
نے اپنی زندگی
کا آغاز علاقہ
نواب صاحب میں
جہاں آپ کی قبر
ہے۔ جبکہ آپ
کے والد بزرگوار
نے علاقہ میں
ابتدائی تعلیم
حاصل کی اور
علم دین کے حصول
کے لیے نجف کا
رخ کیا۔ مختصر
یہ کہ سید امیر
حسین نقوی نے
اپنی زندگی
کے آٹھ سال نجف
میں حصول علم
کے لیے وقف کیے
اور باقی زندگی
فروغ تعلیمات
محمد و آل محمد
میں صرَف کئے
اور تقریباً
پوری زندگی
افریقہ، کینیڈا
اور کینیا وغیرہ
میں گذاری جبکہ
خداوند کریم
نے آپ کو دو فرزند
اور چھ صاحب
زادیاں عطا
کیں جو تمام
کے تمام اپنی
مثال آپ ہیں
اور ڈاکٹر محمد
علی نقوی نے
تو کمال ہی کیا
خاندان تو خاندان،
قوم کی لاج بھی
رکھ لی۔
شہید ڈاکٹر
محمد علی نقوی
کی پیدائش:
شہی28دستمبر
1952ء کو لاہور کے
علاقہ علی رضا
آباد میں ایک
ایسے فرزند
زہرہ نے آنکھ
کھولی جو بعد
میں بانی
بن کر سامنے
آیا۔ اس فرزند
زہرہ کا نام
ملت جعفریہ
کے مسیحا علامہ
سید صفدر حسین
نجفی مرحوم
نے محمد علی
تجویز کیا اور
فخریہ انداز
میں فرمایاکہ
میری زندگی
میں اس نام کے
ہر شخص نے ستاروں
پہ کمند ڈالے
ہیں۔ جب آپ کی
پیدائش ہوئی
تو آپ کے والد
نجف اشرف میں
مقیم تھے۔ اسی
سال واپس آئے
اور واپسی پر
اہل خانہ کو
بھی ساتھ لے
گئے۔ یہ ڈاکٹر
صاحب کی خوش
قسمتی تھی کہ
عالم زادہ ہونے
کے ساتھ ساتھ
نجف و کربلا
کی فضائیں جذب
کرنے کا موقع
نصیب ہوا۔ ڈاکٹر
صاحب نے چلنا
نجف میں سیکھا
تو بولنا کربلا
میں شاید یہی
وجہ تھی کہ انہوں
نے زندگی بھر
اسی فقرے کو
لائحہ عمل بنایا۔
جینا علی کی
صورت مرنا حسین
بن کر
تقریباً چھ
سال تک نجف و
کربلا کی فضاﺅں
میں پروان چڑھے
یوں خوب کربلا
والوں کی محبت
خون میں رچ بس
گئی۔ |