وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they live, finding their sustenance in the presence of their Lord;
Al-Qur'an, 003.169 (Aal-E-Imran )

+92-300-9238065
Danish_naqvi@yahoo.com
  The Audio and Video of Doctor Muhammed Ali naqvi will be Uploaded as soon as possible.  
-

” خدا گواہ رہنا کہ ہم نے تیرے دین رسول اور کتاب اور ان کے پیروکاروں کے دشمنوں کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق اعلان نفرت کردیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۰۱ ذی الحجہ کی شام  ایرانی نشریات سے یہ خبر نشر کر دی گئی کہ آج سعودی عرب میں عالمی سامراج امریکہ کے خلاف مظاہرہ ہوا۔ بعد ازں آپ کو  آپ کے دوستوں کو سعودی جیل کی سختیاں برداشت کرنی پڑیں۔ جب کسی دوست نے آپ سے دوران جیل سزاﺅں کی تکلیف کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا:
” اگر ہماری اس کوشش سے امام خمینیرح کو چند سانس بھی سکون کے میسر آجائیں تو یہ اذیتیں کوئی معنے نہیں رکھتیں “
شاید یہی وجہ تھی کہ آپ برادران کے ایک سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ : دوستو جو کام ذات کے لیے ہوتے ہیں وہ تھکا دیتے ہیں اور جو کام خدا کے لیے قوم کے لیے اور قربت الہیٰ کے لیے ہوتے ہیں وہ انسان کو خستہ نہیں ھونے دیتے۔
آقا بہاﺅ الدینی جو پاکستان میں امام سید علی خامنہ ای کے نمائندہ ہیں ایک محفل میں فرماتے ہیں کہ
” میں نے پاکستان میں ایک نوجوان بھی ایسا نہیں دیکھا جو امام خمینی رح اور انقلاب اسلامی ایران سے عشق رکھتا ہو اور اس کا تعلق ڈاکٹر محمد علی نقوی سے نہ ہو"۔ اس فرمان سے ظاہر ہے کہ امام کی محبت کا اصل محور ڈاکٹر محمد علی نقوی کی ذات ہے۔ ڈاکٹر شہید نقوی کو امام خمینیرح سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ جس کو خود شہید یوں بیان فرماتے ہیں کہ:
” مجھے امام کی دست بوسی کی لذت کا سرور تا زیست نہیں بھولے گا۔ جب بھی تصور میں وہ لمحات آتے ہیں لذت حاصل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
ہر وہ محفل جس میں امام خمینیرح کا ذکر ہوتا آپ کی پسندیدہ محفل ہوتی تھی اور وہ افراد جو امام اور ان کی فکر کا تذکرہ کرتے تھے آپ کو محبوب لگتے تھے۔
جوں ہی ڈاکٹر صاحب کو امام کی رحلت کی خبر ملی تو آپ دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں نے آپ کو اتنا غمگین دیکھا۔ جبکہ اپنے والدین کی وفات پر صرف اشکبار ہوئے۔ یہ نہیں کہ انہیں اپنے والدین کی فرقت کا غم نہیں تھا بلکہ وہ خود کہا کرتے تھے کہ

 


Main | Biography | Audio | Video | Gallery